Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
66 - 109
سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کے نہ مسکرانے کا سبب
حضور نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سے دریافت فرمایا: کیا بات ہے کہ میں نے حضرت میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا؟ تو حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: جب سے جہنّم کو پیدا کیا گیا ہے اس وقت سے حضرت میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام نہیں مسکرائے۔  (مسند احمد، مسند انس بن مالک، ۴/ ۴۴۷، حدیث:۱۳۳۴۲)
چراغ کی لَو پر اُنگلی رکھ دی
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 853 صَفحات پر مشتمل کتاب جہنّم میں لے جانے والے اعمال (جلداول) صَفْحَہ 97پر ہے:ایک نیک بزرگ کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، ہوا یوں کہ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے قریب ہی ایک چراغ جل رہا تھا، اچانک ان کے دِل میں گناہ کا خیال آیا تو وہ اپنے نفس سے کہنے لگے:میں اپنی انگلی اس چراغ کی بتی پر رکھتا ہوں اگر تو نے اس پر صبر کر لیا تو میں اس گناہ کو کرنے میں تیری بات مان لوں گا۔ پھر جب انہوں نے اس بتی پر اپنی انگلی رکھی تو بے قرار ہو کر چیختے ہوئے کہنے لگے: اے دشمنِ خدا! جب تو دنیا کی اس آگ پر صبر نہیں کر سکا جسے 70مرتبہ بجھایا گیا ہے تو