گے۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کرتا ہے، حلال اپنا کر جنّت کا حقدار بنتا ہے یا حرام اپنانے کی صورت میں مستحقِ نار بنتا ہے۔ یقیناً عقلمند وہی ہے جو جنّت کی راہ اختیار کرے کہ ہم میں سے کوئی بھی جہنّم کا عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
آئیے! جہنّم اور عذابِ جہنّم کی ایک جھلک دیکھئے اور خوفِ خدا سے لرزیئے !
حضرت سیِّدُنا انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ مالک کون و مکان، سرکارِ والا شان صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نِشان ہے:تمہاری یہ (دنیا کی) آگ جہنّم کی آگ کا 70واں حصہ ہے۔ اگر یہ پانی سے دو مرتبہ بجھائی نہ گئی ہوتی تو تم اس سے نفع نہ اٹھا سکتے تھے، اب یہ خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے التجا کرتی ہے کہ اسے واپس اس آگ میں نہ ڈالا جائے۔
(ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب صفۃ النار، ۴/ ۵۲۸، حدیث:۴۳۱۸)
محبوبِ باری کی جہنّم کے خوف سے گریہ و زاری
حضرتِ سیِّدُنا امام حافظ ابوالقاسم سیلمان طبرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی نَقْل فرماتے ہیں:ایک بار سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دَرْبارِ دُرّبَار میں حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے اور عرض کی: یا