چاہے سلوک کرے وہ کسی کو نہ روکےگی۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا لیکن وہ جس شخص کے پاس سے بھی گزرتی وہ شرم و حَیا سے اپنا سر جھکا لیتا، جب اس نے تمام شہر گھوم لیا اور کسی نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تو وہ شہزادی کو لے کر واپس چل دی مگر جونہی گھر میں داخل ہونے لگی تو اچانک ایک شخص نے شہزادی کو روک کر بوسہ دیااور بھاگ کھڑا ہوا۔ عورت شہزادی کو بادشاہ کے پاس لے کر حاضر ہوئی تو بادشاہ نے سارا ماجرا دریافت کیا، اس نے سب کچھ بتا دیا، پس بادشاہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کیا اور یوں عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں صرف ایک عورت کو بوسہ دیا اور مجھ سے دنیا ہی میں اس کا بدلہ لے لیا گیا۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۲/ ۲۷۵)
تمہیں کیا چاہئے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں کی آزمایش کے لیے انہیں حلال و حرام کے دو راہےپر کھڑا فرما دیا ہے کہ چاہیں تو حلال کے راستے پر چلیں یا حرام کے۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی خوب واضح فرما دیا ہے کہ اگر یہ حلال کے راستے پر چلے تو فرشتہ صفت یا اس سے بھی برتر مقام پر فائز ہوں گے ورنہ حرام کی راہ اپنانے کی صورت میں درندہ صفت یا اس سے بھی بدتر ہوجائیں