ملکی دوروں پر رہنے والے افراد اپنی بے راہ روی کے سبب یہ مرض بطورِ تحفہ واپسی میں ساتھ لاتے ہیں اور اپنی بیویوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب جنسی بے راہ روی ہے۔ دستیاب حقائق کے مطابق ایڈز کے پھیلاؤ میں 70 فیصد سبب ’’جسمانی تعلقات‘‘بنتے ہیں جبکہ آلودہ خون اور آلودہ آلات (جیسے سرنج، نشتر، زنبور وغیرہ) اس حوالے سے کمتر شرح رکھتے ہیں۔ اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو جنسی آزادی نہ رکھنے والے یا محدود رکھنے والے معاشروں میں یہ مرض اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہا۔ ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق پندرہ فیصد مرد اور تین فیصد خواتین، ازدواجی تعلقات سے قطع نظر جنسی تعلقات کا تجربہ کر چُکے ہیں اور ان میں سے چودہ فیصد کے جنسی ساتھی ایک سے زیادہ رہے۔
یہ مرض پھیلنے کا ایک بڑا ذریعہ ایڈز زدہ مریض کے خُون کی صحت مند فرد میں منتقلی ہے یعنی اگر ایڈز سے آلودہ خون کسی صحت مند فرد کو لگا دیا جائے تو وہ بھی اس کی زد میں آ جاتا ہے۔اس کے علاوہ آلودہ سوئی یا سرنج کا استعمال ایڈز پھیلنے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے، یہ صورت تیسری دُنیا کے ممالک میں بہت عام ہے اورایڈز سے متاثرہ ماں سے ہونے والے بچے کو بھی یہ مرض لگ سکتا ہے۔