میں کوئی عزت نہیں ہوتی۔ بلکہ ابتدائے اسلام میں تو مومنین پر بدکار عورتوں سے نکاح کرنا ہی حرام تھا۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اَلزَّانِیۡ لَا یَنۡکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً ۫ وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنۡکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۳﴾
(پ۱۸، النور: ۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بدکار مَرد نِکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شِرک والی سے اور بدکار عورت سے نِکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مُشْرِک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مومنین پر بدکار عورتوں سے نکاح کی حرمت کا حکم اگرچہ ابتدائے اسلام میں تھا مگر کوئی بھی سلیم الفطرت مرد بدکار عورت کو اپنے نکاح میں لینے کیلئے تیار نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی شخص کسی بدکار مرد سے اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح کرنے پر تیار ہوتا ہے۔
دورِ جدید میں بدکاری کی آفت
دورِ جدید میں گناہوں کی نحوست کی وجہ سے جہاں دوسری بے شمار بیماریاں مختلف شکلوں میں موجود ہیں وہیں بدکاری کے سبب انسان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہوتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹروں کی عقلیں دنگ ہیں، جی ہاں ڈاکٹرز کے مطابق