کشادہ تھا، اس کے نیچے آگ جَل رہی تھی، جب آگ کے شعلے بلند ہوتے تو اس میں موجود لوگ بھی اوپر آ جاتے یہاں تک کہ وہ نکلنے کے قریب پہنچ جاتے اور جب آگ بجھ جاتی تو وہ اسی میں واپس لوٹ جاتے اور اس میں برہنہ مرد اور عورتیں تھیں۔ (بخاری،کتاب الجنائز، ۱ /۴۶۷، حدیث:۱۳۸۶( اورایک روایت میں ہے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: پھر ہم تنور کی مثل ایک چیز کے پاس پہنچے۔ راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرما رہے تھے:اس میں سے چیخ و پکار کی آوازیں آرہی تھی۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہم نے اس میں جھانکا تو اس میں ننگے مرد اور عورتوں کو پایا جبکہ ان کے نیچے سے ایک شعلہ ان کی طرف آتا اور جب ان تک پہنچتا تو وہ چیخنے لگتے ۔ اس حدیثِ پاک کے آخر میں ہے:’’ننگے مرد اور عورتیں جو کہ تنور کی مثل سوراخ میں تھے وہ سب زانی مرد اور زانی عورتیں تھیں۔‘‘ (بخاری، کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد صلاۃ الصبح،۴ /۴۲۵، حدیث:۷۰۴۷)
وَادِیٔ جُبُّ الْحُزن کی مخلوق
دو عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جہنّم میں ایک وادی کا نام جُبُّ الحزن (یعنی غم کا