فرمائیں گے: اے عذاب کے فرشتو!ان زانیوں کی آنکھوں کو آگ کی سلائیوں سے داغ دو جس طرح کہ یہ حرام دیکھتے تھے، ان کے ہاتھوں کو آگ کی زنجیروں سے جکڑ دو جس طرح کہ یہ حرام کی طرف ہاتھ بڑھاتے تھے، ان کے پاؤں کو آگ کی بیڑیوں سے باندھ دو جس طرح کہ یہ حرام کی طرف چلتے تھے۔ فرشتےکہیں گے: ہاں! ہاں !ضرورتو وہ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کوزنجیروں میں جکڑدیں گے اور ان کی آنکھیں آگ کی سَلائیوں سے داغ دیں گے تووہ چیخ وپکار کرتے ہوئے فریاد کریں گے :اے عذاب کے فِرِشتو!ہم پر رحم کرو، ایک لمحہ کے لئے تو ہم سے عذاب کم کردو۔فرشتے کہیں گے :ہم تم پرکیسے رحم کریں جبکہ رب العالمین قہاروجبار عَزَّ وَجَلَّتم پرغضب فرماتا ہے ۔
(قرۃ العیون، الباب الثالث فی عقوبۃ الزنا، ص ۳۸۸(
بھڑکتے تَنُّور کاعذاب
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نِشان ہے: میں نے آج رات دو شخص دیکھے، وہ میرے پاس آئے اور مجھے ایک مقدس سر زمین کی طرف لے گئے۔ اس کے بعد (راوی نے) طویل حدیثِ پاک ذکر کی یہاں تک کہ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: پھر ہم تنور کی مثل ایک سوراخ کے پاس پہنچے جس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے والا