﴿۵﴾ (ظالِم) سپاہی ﴿۶﴾ہیجڑا (عورتوں سے مُشَابَہَت اِختِیار کرنے والا) ﴿۷﴾رِشْتے داری توڑنے والااور ﴿۸﴾وہ شخص جو خدا کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ فُلاں کام ضرور کرو ں گا پھر وہ کام نہیں کرتا۔‘‘ (آنسوؤں کا دریا، ص ۲۲۹ (
عادی سے مراد
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد حضرتِ علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: بدکاری پر اِصْرار کرنے والے سے مراد ہمیشہ بدکاری کرتے رہنے والا نہیں،اسی طرح شراب کے عادی سے مراد یہ نہیں جو ہمیشہ شراب پیتا رہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب اسے شراب میسر ہو تو وہ پی لے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے شراب پینے سے باز نہ آئے، اسی طر ح جب اسے زِنا (بدکاری)کا مَوقع ملے تو اس سے توبہ نہ کرے اور نہ ہی اپنے نفس کو اس بر ی خواہش کی تکمیل سے روکے۔ بے شک ایسے لوگو ں کا ٹھکاناجہنّم ہی ہے۔ )آنسوؤں کا دریا، ص ۲۳۰)
بدکاری کی ابتدا و انتہااور انجام
حضرتِ سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَ حِیم نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا: بیٹا ! بدکاری سے بچ کر رہنا کیونکہ اس کی ابتدا خوف اور انتہا ندامت ہے اور اس کا انجام جَہَنَّم کی وادی آثام ہے ۔ (آنسوؤں کا دریا، ص ۲۳۰)