ہیں جو اس کا گوشت نوچ نوچ کرکھاتےرہتےہیں ۔ (شرحُ الصُّدور،ص ۱۷۲(
زانیوں کے لئے آگ کے تابوت
منقول ہے کہ جہنّم میں آگ کے تابوت میں کچھ لوگ قید ہوں گے کہ جب وہ راحت مانگیں گے تو انکے لئے تابوت کھول دیئے جائیں گے اور جب انکے شعلے جہنمیوں تک پہنچیں گے تو وہ بیک زبان فریاد کرتے ہوئے کہیں گے:یا اللہ! ان تابوت والوں پر لعنت فرما ۔یہ وہ لوگ ہیں جو عورتوں کی شرمگاہوں پر حَرام طریقے سے قبضہ کرتے تھے۔ (بحر الدموع، الفصل السابع والعشرون، ص ۱۶۷)
جنَّت میں داخلے سے مَحْروم
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ ۳۰۰ صفحات پر مشتمل کتاب آنسوؤں کا دریا کے صفحہ۲۲۹ پر منقول ہے:اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : اللہ 1 نے جب جنت کو پیدا فرمایاتو اس سے فرمایا :’’ کلام کر۔‘‘ تو وہ بولی: ’’جومجھ میں داخل ہوگا وہ سعادت مند ہے ۔‘‘تو اللہ 1 نے فرمایا:’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم!تجھ میں آٹھ قسم کے لوگ داخل نہ ہوں گے: ﴿۱﴾شراب کاعادی﴿۲﴾بدکاری پراصرارکرنے والا﴿۳﴾چُغْل خَور﴿۴﴾دَیُّوث ﴿۵﴾