Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
44 - 109
چھوا تھا۔ آنکھ کہے گی: میں نے حَرام کی طرف دیکھاتھا۔ پاؤں کہیں گے :ہم حَرام کی طرف چلے تھے ۔شرمگاہ کہے گی:میں نے حَرام فعل کیا تھا۔مُحافِظ فِرِشتہ کہے گا: میں نے سنا تھا۔دوسرا فرشتہ کہے گا:میں نے لکھا تھااور زمین کہے گی: میں نے دیکھاتھا۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا:مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! مجھے تیری حرام کاری کاعِلْم تھا، اس کے باوجود میں نے تیری پردہ پَوشی فرمائی۔اے میرے فِرِشْتو!اس کو پکڑکر میرے عذاب میں ڈال دو اور اسے میری ناراضی کا مَزہ چکھاؤ،جس نے بے حَیائی کی اس پر میراغضب انتہائی سخت ہوگا۔ 
(قرۃ العیون ، الباب الثالث فی عقوبۃ الزنا،ص۳۸۹)
احادیثِ مبارکہ میں بدکاری کی مَذَمَّت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدکاری کا گناہ ہماری دنیا وآخرت برباد کردینے والا ہے،آیئے!اس سلسلے میں احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ چند وعیدیں پڑھیئے اور خوفِ خدا سے لرزیئے:
دو سانپ نوچ نوچ كر كھائیں گے
حضرتِ سیِّدُنا مَسْروق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ القُّدُّوس سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جو شخص چوری یاشراب خوری یا بدکاری یا ان میں سے کسی بھی گناہ میں مُبتَلا ہو کرمرتا ہے اُس پر دو سانپ مقرَّر کر دیئے جاتے