بھی بدکاری کرتا ہے اور اس کی بدکاری بوسہ دینا ہے۔‘‘
(ابو داود،کتاب النکاح،باب فی ما یؤمر بہ من غض البصر،۲ /۳۵۹، حدیث:۲۱۵۳)
اعضاء کی بدکار کے خلاف گواہی
پیارے اسلامی بھائیو!جس نے کسی اَجنبیہ عورت سے مُصَافَحہ کیا تووہ بروزِ قِیامَت اس حال میں آئے گاکہ اس کا ہاتھ آگ کی زنجیر سے گردن کے ساتھ بندھا ہو گا اوراگر اُس مرد نے اَجنبیہ سے بدکاری کی ہوگی تواس کی ران اللہ 1 کی بارگاہ میں عرض کرے گی:میں نےفلاں مہینے میں فلاں جگہ پر فلاں کے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا تھا۔ اس وقت اس کے چہرے کا گوشت جھڑجائے گاتو اس کاچہرہ بغیر گوشت کے ہڈی کارہ جائے گا،اللہ 1 اس گوشت سے فرمائے گا:میرے حکم سے پہلی حالت پر لوٹ آ۔تووہ گوشت دوبارہ اس کے چہرے پرجم جائے گااور زانی کاچہرہ تارکول (ڈامر) (1)سے بھی زیادہ سیاہ ہوجائے گا،زانی جرأت کرتے ہوئے کہے گا:یارب عَزَّ وَجَلَّ!مَیں نے توکبھی گناہ نہیں کیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ زبان کوحکم دے گا: گونگی ہوجا۔پس وہ گونگی ہوجائے گی تو اس وقت اس کے دیگر اعضائے بدن بولناشروع کردیں گے۔ ہاتھ کہے گا:الٰہی! میں نے حَرام کو
(1) - ایک سیاہ سیال اور لیس دار مادہ جو لکڑی اور پتھر کے کوئلے جیسی چیزوں سے نکالا جاتا ہے اور گھن اور زنگ سے بچاؤ کے لیے لکڑی اور لوہے پر لگایا جاتا ہے اور سڑکوں کی تعمیر میں سڑکوں پر بچھایا جاتا ہے اور چھتوں پر بھی ڈالا جاتا ہے تاکہ چھت پانی سے محفوظ ہو جائے۔