وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ارشاد فرمایا: ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ کرو (یعنی اگر اچانک بلاقصد کسی عورت پر نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹالے اور دوبارہ نظر نہ کرے)کہ پہلی نظر جائز ہے اور دوسری نظر جائز نہیں۔ (مسنداحمد، حدیث بریدۃ الأسلمی، ۹/۱۸، حدیث:۲۳۰۵۲)
اچانک پڑ جانے والی نظر پھیرلینے کی فضیلت
حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ خوشبودار ہے: جو مسلمان کسی عورت کی خوبیوں کی طرف پہلی بار (بلاقصد) نظر کرے پھر اپنی آنکھ نیچی کر لے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ایسی عبادت کی توفیق عطا فرمائے گا جس کی وہ لذت بھی محسوس کرے گا۔ (مسند احمد، ۸/۲۹۹، حدیث:۲۲۳۴۱)
دیگر اعضاء کی بدکاری
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدکاری صرف شرمگاہ اور آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ ہاتھ،پاؤں اور کان وغیرہ جسم کے دوسرے اعضاء سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خصال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’ ہاتھ بدکاری کرتے ہیں اور ان کی بدکاری (حرام کو) پکڑنا ہے،پاؤں بدکاری کرتے ہیں اور ان کی بدکاری (حرام کی طرف) چلنا ہے اور منہ