Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
41 - 109
یہ تو آپ نے جان لیا، آئیے! اب یہ بھی جانتے ہیں کہ بدنِگاہی کی وَجہ سے نہ صِرف دیکھنے والا سزاوار ہے بلکہ جو اس بدنِگاہی کا سَبَب بنا ہے وہ بھی مُجرِم ہے۔ چُنَانچہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عِبرت نِشان ہے: دیکھنے والے پر اور اُس پر جس کی طرف نظر کی گئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت۔ (شعب الایمان، باب الحیاء، فصل فی الحمام، ۶ /۱۶۲، حدیث:۷۷۸۸)یعنی دیکھنے والا جب بلا عذر قصداً دیکھے اور دوسرا اپنے آپ کو بلاعذر قصداً دکھائے تو دونوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت۔
اچانک نظر کا حکم
پیارے اسلامی بھائیو!اگر آپ نے بلا عذر اور بغیر ارادے کے کسی بے پردہ عورت پر نظر پڑ جانے کی صورت میں فوراً اپنی آنکھوں کو جھکا لیا تو کسی فتنے کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں گے اور اس کی کئی روایات میں فضیلت بھی آئی ہے اور اچانک پڑ جانے والی نظر کا حکم بھی یہی ہے کہ فوراً پھیر لی جائے۔ چنانچہ، 
حضرت سیِّدُنا جریر بن عبد ﷲ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے سرورِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اچانک نظر پڑجانے کے متعلق دریافت کیا۔تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حکم دیا کہ اپنی نگاہ پھیر لو۔ (مسلم، کتاب الآداب، باب نظرالفجاء ۃ، ص۱۱۹۰، حدیث: ۲۱۵۹) اور ایک روایت میں حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضے کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ