ہیں۔ اسی لئےقرآن وحدیث میں آنکھوں کی حفاظت کی بڑی تاکید فرمائی گئی ہے۔چنانچہ پارہ ۱۸، سورۂ نورکی آیت نمبر۳۰ میں ارشاد ہوتا ہے: قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنْ اَبْصٰرِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾ (پ۱۸، النور: ۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہيں کچھ نيچی رکھيں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کريں يہ ان کيلئے بہت ستھرا ہےبے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : جن چيزوں کا ديکھنا جائز نہيں انہيں نہ ديکھيں۔خيا ل رہے کہ اَمْرَد لڑکے کو شہوت سے ديکھنا حَرام ہے اسی طرح اجنبيہ کا بدن ديکھنا حرام ۔البتہ طبيب (Physician)مرض کی جگہ کو اور جس عورت سے نِکاح کرنا ہو اسے چھُپ کر ديکھنا جائز ہے۔ نيچی نِگاہ رکھنا، اسبابِ زنا (بدکاری کے اسباب) سے بچنا، تہمت کے مَقام سے بھاگنا بہت بہتر ہے۔
(تفسیر نور العرفان مع کنز الایمان، پ۱۸، النور، تحت الآیۃ ۳۰)
دیکھنے و دِکھانے والا دونوں ملعون
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدنگاہی کیسے کیسے فتنوں کا سبب بن سکتی ہے