Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
39 - 109
ہے۔ (منہاج العابدین،تقویٰ الاعضاء الخمسۃ، الفصل الاول :العين، ص۶۲)
حضرت سیِّدُنا یحیی عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی گئی:بدکاری کی ابتدا کیا ہے؟ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا:دیکھنا اور خواہش کرنا ۔  
(لباب الاحیاء،باب فی کسر الشھوتین، ص۲۰۹) 
شکلوں کا بگڑنا
حضرت سیِّدُنا ابو اُمَامہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےکہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم ضرور اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو گے اور اپنے چہرے سیدھے رکھو گے یا پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری شکلیں بگاڑ دے گا۔‘‘
(المعجم الکبیر، ۸ /۲۰۸، حدیث:۷۸۴۰ (
آنکھوں کی حِفاظَت کرو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ فرامین سے ہم پر یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ بدنگاہی انسان کے بدکاری میں مبتلا ہونے کا بہت بڑا ذَرِیعہ ہے لہٰذا آنکھوں کی حفاظت ہم پر لازم ہے،یہ آنکھیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہیں جن سے ہم بہت سارے نیک کام کرسکتے ہیں لیکن اگر انہیں شریعت کی پابندیوں سے آزاد کردیا جائے تو پھر یہ نامہ ٔ اعمال کو سیاہ کرچھوڑتی