بدنِگاہی کی سزا
حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نورِ مجَسّمْ،شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے چہرے سے خون بہہ رہاتھا، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے استفسار فرمایا : تجھے کیا ہوا؟اس نے عرض کی:میرے پاس سے ایک عورت گزری، میں اس کی طرف دیکھنے لگا ،میری نگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھیں کہ اچانک میرے سامنے ایک دیوار آگئی جس نے مجھے زخمی کردیا اور میرا یہ حال کردیا جسے آپ مُلاحَظہ فرمارہے ہیں۔ تو سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تواُسے دنیاہی میں اس کے گناہ کی سزادے دیتاہے۔ (المعجم الکبیر، ۱۱ /۲۴۸، حدیث:۱۱۸۴۲)
بدکاری کی ابتدا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ اس پُر فِتَن دور میں خود کو بُرائیوں سے بچانا چاہتے ہیں تو آنکھوں کی حِفاظَت بَہُت ضروری ہے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے منقول ہے کہ خود کو بدنِگاہی سے بچاؤ کیونکہ بدنِگاہی دل میں شہوت کا بِیج بَوتی ہے،پھر شہوت بدنِگاہی کرنے والے کو فتنہ میں مبتلا کردیتی