کوئی اپنی آنکھوں کو نظر حرام سے پُر کرے گا قیامت کے روز اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی آنکھوں کو آگ سے بھر دےگا۔ (مکاشفۃ القلوب،الباب الاول فی بیان الخوف،ص۱۰)
آگ كی سَلائی
حضرت سیِّدُنا علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ عورت کے مَحاسن (یعنی خوبیوں) کو دیکھنا ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے۔ جس نے نامحرم سے اپنی آنکھ کی حِفاظت نہ کی بروزِ قیامت اُس کی آنکھ میں آگ کی سَلائی پھیری جائے گی۔ (بَحرُ الدُّمُوع،الفصل السابع والعشرون،ص۱۷۱)
آہ!ہمارے نازُک جِسْموں میں کہاں جہنّم کے عذاب کی تاب ہے! ہمیں چیونٹی کاٹ لے تو تڑپ اٹھتے ہیں!آنکھ میں مَعْمُولی سا کنکر چلا جائے تو بے قرار ہوجاتے ہیں۔ ذرا سوچئے تو سہی۔۔۔! اگر بد نِگاہی کے سَبَبْ آنکھوں میں جہنّم کی آگ کی سَلائی پھیر دی گئی تو ہمارا کیا بنے گا؟آئیے ابھی وقت ہے،یہ سانس چل رہی ہے، توبہ کا درکھلا ہے، اُس کریم و رحیم رب کی رحمت بڑی وسیع ہے توبہ کر کے مَغْفِرَت کی بھیک مانگ لیجئے ۔
کر لے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قَبْر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی