آنکھوں کی بدکاری
پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ بدنگاہی کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ لہٰذا اپنی ناموس کی حفاظت چاہتے ہیں تو اپنی نگاہوں کو بند کر لیجئے ورنہ یاد رکھئے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، محبوب رب العزت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:آنکھیں بھی بدکاری کرتی ہیں۔ (مسند احمد، ۲ /۸۴، حدیث :۳۹۱۲) اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ آنکھوں کی بدکاری دیکھنا ہے۔ (ابو داود،کتاب النکاح،باب فی ما یؤمر بہ من غض البصر،۲/۳۵۸، حدیث:۲۱۵۳)
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں: جو آدمی اپنی آنکھوں کو بند کرنے پر قادر نہیں ہوتا وہ اپنی شرمگاہ کی بھی حفاظت نہیں کرسکتا۔ (احیا ء علوم الدین،کتاب کسرالشھوتین،۳ /۱۲۵)
آقا کی حیا سے جھکی رہتی تھیں نگاہیں
آنکھوں پہ مِرے بھائی لگا قفل ِ مدینہ
آنکھوں میں آ گ
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی تحریر فرماتے ہیں:جو