مَعَاذَ اللہ جَہَنَّم میں گرنا چاہتا ہے، جیسا کہ شادیوں میں دیکھا جاتا ہے کہ کسی کے پاس اگر رقم کم ہے تو صِرْف فِلَمی گانوں کی دُھنوں پر گُزارا کرتا ہے اور جس کے پاس رقم کچھ زیادہ ہے وہ شادی میں بے حيائی سے بھرپور تقاریب کی مُووی (Movie)بھی بنواتا ہے اور اس سے بھی زیادہ رقم والا فنکشن (Function) کا بھی اِہْتِمام کرتا ہے جس میں مرد و عورت مُوسیقی کی دُھنوں اور ڈَھولک کے شور میں بے ڈھنگے پن سے ناچتے، گاتے ہیں تماشائی خوب اُودھم مچاتے، بیہودہ فِقْرے کَسْتے، مزید اس پر ہنستے،قہقہے لگاتے اور زور زور سے تالِیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ اس قسم کی حَرکتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویاشرم و حیا کا عنصر بالکل خَتْم ہوچکا، نِجی مُعامَلات ہوں یا اِجْتمِاعی تقریبات، مَحلّہ ہو یا با زار ہر جگہ شرم و حیا کا قَتْلِ عام اور بے حيائی کی دھوم دھام ہے، جس کو دیکھو بڑھ چڑھ کر بے حيائی کا شیدائی نظر آرہا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو عَقْلِ سلیم عطا فرمائے ۔
بد نِگاہی کی تباہی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدنِگاہی بھی بدکاری کا ایک بَہُت بڑا سَبَب ہے۔انسان جب فَحاشی وعُریانی (Nudity & Obscenity)پرمَبنی نَظارے دیکھتا ہے تو اس کے شَہوانی جَذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور پھر وہ اپنی خواہِش کو پوراکرنے