مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی۔
(پ۸، الاعراف:۳۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں ’’فواحش‘‘یعنی بے حیائی کے کاموں سے منع فرمایاہے۔ یاد رہے ’’فواحش‘‘ ایسے اَقْوال واَفْعال کو کہتےہیں جو بَہُت ہی زیادہ بُرے ہوں۔اب غور کیجئے کہ ہمارا قرآن، ہمارا اسلام، ہمارا ربِ رحمٰن عَزَّ وَجَلَّہمیں بے حَیائی سے روک رہا ہے، یقیناً یہ ہماری غیرتِ ایمانی کا تقاضابھی ہے کہ جب ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لائے ہیں تو ان کے فرامین پر عمل بھی کریں!مگر ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ان احکامات پر عمل کرنے کو تیارہی نظر نہیں آرہے؟پاؤں ہیں کہ بےحیائی کی جانب اٹھتے جارہے ہیں،ہاتھ ہیں کہ بے حیائی کی جانب بڑھے جارہے ہیں،آنکھیں ہیں کہ بےحیائی کی جانب اٹھتی ہی جارہی ہیں! سمجھ میں نہیں آتا کہ اس بگڑے ہوئے مُعاشَرے کا رُخ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے محبوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کی طرف کیسے پھیرا جائے اور اس کو جَہَنَّم کی طرف دوڑے چلے جانے سے روک کر کس طرح جنّت کی سَمت لے جایا جائے ! آہ ! آہ! آہ! ایسا دَ ور آچکا ہے گویا ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر