کوئی ان ناولوں اور افسانوں میں ’’عِشْق ومَحَبَّت‘‘ کی داستانوں کو پڑھے گا وہ خود کو ان حَرْکتوں سے کیسے روک پائے گا!جس کا بعض اوقات نتیجہ بدکاری کی صورت میں سامنے آتاہے۔ بد قسمتی سے ان ناولوں اور افسانوں کو زیادہ تر خواتین پڑھتی ہیں حالانکہ یہ تو وہ نازُک شیشیاں جنہیں معمولی سی ٹھیس نقصان پہنچاسکتی ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کوسورۂ یُوسُف کا ترجَمہ (و تفسیر ) نہ پڑھائیں کہ اس میں مَکْرِ زَناں(یعنی عورَتوں کے دھوکہ دینے) کا ذِکْرفرمایا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ۲۴ /۴۵۵)
ہمیں کیا ہو گیا ہے!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مقامِ غور ہے، لڑکیوں کو قراٰنِ مجید کی ایک سُورَت سورۂ یوسُف کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے سے اس لئے مَنْع کر دیا گیا ہے کہ کہیں یہ مَنْفی(یعنی اُلَٹ) اَثْر نہ لے لیں۔اب آپ ہی اندازہ لگالیجئے کہ انہیں بے ڈھنگی تصویروں اورحیا سوز فِلَمی اِشْتِہاروں وغیرہ ہزاروں تباہ کاریوں سے بھرپور اخباروں(Newspapers)، ماہناموں (Monthly Magazines)، ناوِلوں (Novels) اور ڈائجسٹوں (ڈا ۔ اے ۔جِسْ ۔ٹُوں) (Digests)کی اِجازَت کیسے دی جاسکتی ہے!اسی