Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
29 - 109
ہوتے رہتے ہیں۔خاص طور پر اُس وقت خطرہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے جبکہ ڈرائیور کے بارے میں کوئی معلومات ہی نہ ہوں کہ کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟اور کیسا آدمی ہے؟عُمُوماً بڑے شہروں میں ڈرائیوروں سے جان پہچان کم ہی ہوتی ہے دراصل عورت صِنفِ نازُک ہے اور عموماً مردوں کی توجُّہ کا مرکز ہوتی ہے اور آج کل حالات بھی اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ بَہُت سارے لوگ صِرف اس لئے گناہ نہیں کرتے کہ ان کے بس میں نہیں ورنہ جب کبھی انہیں موقع ہاتھ آتا ہے گناہ کی طرف فوراً لپک پڑتے ہیں ۔ایسے نامساعِدحالات میں اسلامی بہنوں کی ذِمے داری ہے کہ وہ خود ہی محتاط طرزِ عمل اپنائیں۔لہٰذا احتیاط یہی ہے کہ جوان عورت ہرگز ہرگز اندرونِ شہر بھی رِکشہ ٹیکسی میں بِغیر محرم یا ثِقَہ وقابلِ اعتماد خاتون کے سفر نہ کرے نیز فتنے کا اندیشہ جتنا بڑھتا جائے گا احتیاط کی حاجت بھی اُتنی ہی بڑھتی چلی جائیگی۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۲۲۴)
ناول پڑھنااور حیا سوز تصاویر دیکھنا
عِشْقِیَہ و فِسْقِیَہ ناول اور افسانے وغیرہ پڑھنا اور حیا سوز تصاویر دیکھنابھی بدکاری کی طرف لے جانے کا بہت بڑا سبب ہے۔انسان جوکچھ پڑھتا یا دیکھتاہے اس کا اثر اس کے دل پرہوتا ہے اورپھر اُسی طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں تو جو