Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
28 - 109
بن سکتا ہے ۔ نیز بد نصیب عابِد والی حِکایت سے بھی یہ درس ملتا ہے کہ عورت کے فتنے کی وجہ سے قتل و غارتگری تک نوبت پَہُنچ سکتی ہے، فریقَین کے درد ناک انجام کا سامان اور بربادیٔ ایمان کاقوی اِمکان رہتا ہے ۔پس اجنبی مردو عورت کوہرگز ہرگز تنہائی میں اکٹھا ہوناجائز نہیں، اس صورت میں گناہوں کے وسوسے ہی نہیں تہمت لگ جانے بلکہ بَہَک جانے کا بھی اندیشہ رہتا ہے ۔ 
شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘ میں اجنبی ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: ’’اپنے آپ کو خطروں اور فتنوں سے بچانا ہر اسلامی بہن پر لازم ہے۔البتّہ خطروں اور فتنوں کے اندیشوں کی کوئی حدبندی نہیں نا محرم تو دور کی بات مَحارِم سے بھی خطرات ممکن ہیں ۔صرف تنہائی میں ہی نہیں،ہجوم میں بھی خطرات درپیش آتے رہتے ہیں ۔ اسلامی بہن کے اجنبی ڈرائیور کے ساتھ ٹیکسی میں اکیلی بیٹھنے پر اگرچِہ خلوت(یعنی مرد کے ساتھ مکان میں تنہائی) کاحکم تونہیں لیکن یہ صورت خَلوَت(یعنی مرد کے ساتھ مکان میں تنہاہونا) سے مُشابہ(یعنی ملتی جُلتی) ضَرور ہے اور ٹیکسی وغیرہ بند گاڑیوں میں خطرات کاکچھ زیادہ ہی احتمال(یعنی امکان) ہے۔ ڈرائیور کے ذَرِیعے ٹیکسی کے مسافروں کے اِغوا کے واقعات بھی