ہے بلکہ دیور کو موت قرار دیا گیا ہے تو غور کیجئے عام لوگوں کے کسی عورت سے تنہائی میں ملنے جلنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مروی ہےکہ شَہَنْشاہِ اَبرار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُشکبارہے: محرم کے علاوہ کوئی مرد کسی عوت کے ساتھ ہر گز تنہائی اختیار نہ کرے۔ ایک صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے اور میرا نام اتنے عرصے کے لئے فلاں غزوہ (میں شرکت کرنے والوں ) میں لکھ لیا گیا ہے ۔ ارشاد فرمایا:’’تم لوٹ جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ (بخاری،کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل بامراۃ۔۔ الخ، ۳ / ۴۷۲، حدیث:۵۲۳۳) اور حضرت سیِّدُنا جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہےکہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:محرم یا شوہر کے علاوہ شادی شدہ عورت کے پاس کوئی شخص رات نہ گزارے۔
(مسلم، کتاب السلام، باب تحریم الخلوۃ بالاجنبیۃ۔۔۔الخ،ص ۱۱۹۶، حدیث:۲۱۷۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناً کوئی اجنبی عورت ہو یا نامَحرم رِشتے دار، دونوں جہاں کی بھلائی اسی میں ہے کہ کبھی بھی اس سے تنہائی میں ملاقات نہ کریں۔ ورنہ مردو عورت کا آپَس میں بے تکلُّف ہونا بے حد خطرناک نتائج کا سبب