کیا نہ کرتا ! عابِدنے کہا:میں تیری ہر بات ماننے کیلئے تیّار ہوں۔ تو شیطان نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا انکار کر دے اور کافر ہوجا ۔ بد نصیب عابِد نے کہا: میں خدا کا انکار کرتا ہوں اور کافر ہوتا ہوں ۔شیطان ایک دم غائب ہو گیا اور سپاہیوں نے فوراً اُس بد نصیب عابِد کو دار پر کھینچ لیا۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۹۳)
عورتوں کے پاس جانے سے بچو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا نامحرم عورتوں کے قریب اچھی نیت سے جانا بھی فتنے سے خالی نہیں۔ چنانچہ فتنے کے اس دروازے کو بند کرنے کے لیے دو عالم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِیَّاکُمْ وَالدُّخُولَ عَلَی النِّسَاءِ یعنی ( نامحرم) عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ ایک انصاری صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! دیور کے متعلق کیا حکم ہے؟ (کیا وہ اپنی بھابھی کے پاس جا سکتا ہے؟) تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’دیور تو موت ہے۔‘‘
(بخاری،کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل بامراۃ۔۔ الخ، ۳ / ۴۷۲، حدیث:۵۲۳۲)
شادی شدہ عورتوں کے پاس رات گزارنے کی ممانعت
پیارے اسلامی بھائیو!جب دیور بھابھی کو تنہائی اختیار کرنا منع