سے مُصَافْحَہ کرنا حرام ہے۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت (جلد سوم) صَفْحَہ 446پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اجنبی عورتوں کو دیکھنے اور چھونے کے متعلق احکام ذکر کرتے ہوئے نقل فرماتے ہیں کہ اَجنبیہ عورت کے چہرے اور ہتھیلی کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے مگر چھونا جائز نہیں، اگرچہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو کیونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت اور بَلْوَائے عام ہے چھونے کی ضرورت نہیں، لہٰذا چھونا حَرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مُصَافَحہ جائز نہیں اسی لیے حُضُورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بَوَقْتِ بیعت بھی عورتوں سے مُصَافَحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بیعت لیتے۔ ہاں اگر وہ بہت زیادہ بوڑھی ہو کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مُصَافَحہ میں حرج نہیں۔ یُونہی اگر مرد بہت زیادہ بوڑھا ہو کہ فتنہ کا اندیشہ ہی نہ ہو تو مُصَافَحہ کرسکتا ہے۔ (بہارِ شریعت، ۳/۴۴۶)اور ایک روایت میں تو یہاں تک مروی ہے کہ جس نے کسی اَجنبیہ عورت سے مصافحہ کیا(یعنی ہاتھ مِلایا)تووہ بروزِقیامت اس حال میں آئے گاکہ اس کا ہاتھ آگ کی زَنْجِیرسے گردن کے ساتھ بندھا ہو گا۔
(قرۃ العیون، الباب الثالث فی عقوبۃ الزنا، ص ۳۸۹)