اجنبی عورت کا مرد کو دیکھنا کیسا؟
شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘ میں عورت کے غیر مرد کو دیکھنے یا نہ دیکھنے کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: (عورت کے غیر مرد کو) نہ دیکھنے میں عافیّت ہی عافیَّت ہے۔ البتّہ! دیکھنے میں جواز کی صورت بھی ہے مگر دیکھنے سے قبل اپنے دِل پر خوب خوب اور خوب غور کر لے کہیں یہ دیکھنا گناہوں کے غار میں نہ دھکیل دے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام جواز کی صورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’عورت کا مردِ اجنبی کی طرف نظر کرنے کا وُہی حکم ہے جومَرد کا مَرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اُس وقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کی طرف نظر کرنے سے شَہوت نہیں پیدا ہوگی اور اگر اس کاشُبہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے۔‘‘(پردے کے بارے میں سوال جواب،ص۲۵)
اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا کیسا؟
پیارے اسلامی بھائیو! غیر مسلم مُعاشَروں کی دیکھا دیکھی اب مُسْلِم مُعَاشَروں میں بھی مَردوں کے اجنبی عَورتوں سے مُصَافْحَہ کرنے کی وَبا اس قدر عام ہو چکی ہے کہ اس سے بچنا ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔ حالانکہ ان