لوہے کی کیل
حضرت سیِّدُنا مَعْقِل بن یَسَار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت ناک ہے:’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے،یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہیں۔‘‘
(المعجم الکبیر،۲۰/۲۱۱، حدیث:۴۸۶)
اَلْغَرْض اِرْدْگِرْد کا ماحَول بَہُت بِگَڑ چُکا ہے مگر ہمیں ہتھیار نہیں ڈالنے اگرچہ سامنے بےحیائی کا مظاہرہ ہورہاہےمگر ہمیں اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنی ہےخود کو بے حیائی والے کاموں سے بچانا ہے۔ اَوّلاً تو ایسی جگہوں پرجانے ہی سے گریز کرنا چاہیے جہاں بے پردہ عورتوں سے اِخْتِلاط (میل ملاپ)کااِمْکان ہواور اگر کبھی گُفْتگو وغیرہ کرنی ہی پڑجائے تو بغیر بے تکلف ہوئے نظریں جھکا کر بس ضرورت کی بات کریں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو بےحیائی والے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اجنبی عورت سے خَلْوَت کی تباہی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عورت کے اَجْنَبی مَرْد کے ساتھ خَلْوَت یعنی تنہائی