Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
18 - 109
کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں : (مرد اجنبی عورت کا چہرہ) نہ دیکھے۔ البتّہ ضَرورتاً بعض قُیودات کے ساتھ دیکھ سکتا ہے ۔ اِس کی بعض صورَتیں بیان کرتے ہوئے صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے کا حکم یہ ہے کہ(ضَرورت کے وقت) اُس کے چہرے اور ہتھیلی کی طرف نظر کرنا جائز ہے کیونکہ اس کی ضَرورت پڑتی ہے کہ کبھی اس کے مُوافِق یا مخالِف شہادت(گواہی) دینی ہوتی ہے یا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اگر اسے نہ دیکھا ہو تو کیونکر گواہی دے سکتا ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے۔ اس کی طرف دیکھنے میں بھی وُہی شرط ہے کہ شَہوت کا اندیشہ نہ ہو اور یوں بھی ضَرورت ہے کہ(آج کل گلیوں بازاروں میں) بَہُت سی عورَتیں گھر سے باہَر آتی جاتی ہیں لہٰذا اس سے بچنا بھی دشوار ہے ۔ بعض عُلَما نے قدم کی طرف بھی نظر کو جائز کہا ہے۔مزید فرماتے ہیں:اَجْنَبِيَّہ عورت کے چہرہ کی طرف اگرچِہ نظر جائز ہے جب کہ شَہوت کا اندیشہ نہ ہو مگر یہ زمانہ فتنے کا ہے اِس زمانے میں ایسے لوگ کہاں جیسے اگلے زمانے میں تھے لہٰذا اِ س زمانے میں اس کو(یعنی چہرے کو) دیکھنے کی مُمانَعَت کی جائے گی مگر گواہ و قاضی کے لیے کہ بوجہِ ضَرورت ان کے لیے نظر کرنا جائز ہے۔
(پردے کے بارے میں سوال جواب،ص۳۰)