معلوم ہوا کہ جہاں مَرْد وعورت تَنْہا ہوتے ہیں وہاں شیطان (Satan)بھی ہوتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ شیطان کا کام گناہ کی دَعْوَت دینا ہے۔لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ اس بے جا اِخْتِلاط سے خود کو بچائیں بلکہ اپنے اَہل وعَیال پر بھی نظر رکھیں اور ان کی اِصْلاح کی کوشِشْ کریں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں اپنی اور اس مُعَاشرے کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے کیونکہ فحاشی وعُرْیانی (Nudity & Obscenity)کے بڑھتے سیلاب کے آگے اگر بَنْد نہ باندھا گیا تو یہ اپنی مُنْہ زور لہروں میں ہم سب کو بہا لے جائے گا۔ امریکہ و یورپ کی اندھی نقّالی کے جوشِ جُنوں میں ہم اپنی اِسْلامی اَقْدار و تَہْذِیْب کو چھوڑ بیٹھے تو کہیں ایسا نہ ہو اُن کی طرح ہم بھی اپنے خاندانی و معاشرتی نظام کو تباہ وبرباد کربیٹھیں اور پھر ذِہْنی سُکُون کو ترسیں، پہلے اگر خواتین گھر سے نکلتی بھی تھیں تو شرم وحَیا کے ساتھ، پردہ کرکے، برقع پہن کر،پھر آہستہ آہستہ برقع گیا اور چادَر آگئی پھر مزید ترقّی آئی اور چادَر بھی گئی، دَوْپَٹّہ رہ گیااور اب اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ لباس کے نام پر وہ کچھ پہنا جانے لگا کہ بیان کرتے ہوئے زبان ۔۔۔۔۔اور لکھتے ہوئے قَلَم لڑکھڑا جائے ۔۔۔۔۔ مگر نہ جانے ہماری شرم وحَیا کہاں چلی گئی ہے؟