Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
107 - 109
وَّکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیّتِہٖ یعنی تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے جس سے (روز قِیامت) اسکی رَعيت کے بارے ميں پوچھا جائے گا۔
(بخاری، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری والمدن، ۱/۳۰۹، حدیث:۸۹۳)
 اس حدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدشریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مراد یہ ہے کہ جو کسی کی نگہبانی میں ہو ۔ اس طرح عوام سلطان اور حاکم کے، اولاد ماں باپ کے، تلامِذہ اَساتذہ کے، مریدین پیر کے رعایا ہوئے۔ یونہی جو مال زوجہ یا اولاد یا نوکر کی سُپُرْدَگی میں ہو۔ اس کی نگہداشت ان پر واجب ہے۔’’نگہبانی میں یہ بھی داخِل ہے کہ رعایا گناہ میں مبتلا نہ ہو۔‘‘ (نزھۃ القاری، ۳/ ۳۳۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں اپنے ماتحت افرادکو نیکی کی دعوت دیتے ہوئے برائیوں سے بچانے کی کوشِش کرنی چاہئے کہ اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَ نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا انتہائی اہم کام ہےاور اس کا ترک کردینا دنیا و آخرت برباد کردینے کا باعث ہوسکتا ہے۔چنانچہ، 
نیکی کی دعوت نہ دینے کا انجام
حضورِ اکرم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم فرمایا فلاں شہر کو اس کے