حرامِ قطعی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ،۲۲/ ۲۱۷) (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۴۲)
عَورتوں کی اِصلاح کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حتَّی الْاِمکان بے پردَگی وغيرہ کے مُعَاملے ميں عورَتوں کو روکا جائے، مگر حکمتِ عملی کے ساتھ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی زوجہ یا ماں، بہنوں پر اس طرح کی سختی کر بیٹھیں جس سے گھر کا اَمْن ہی تہ و بالا ہو کر رَہ جائے۔ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ 16 صَفْحَہ442تا449 سے دیکھنے اور چُھونے کا بیان پڑھنا پڑھانا یا پڑھ کر سنانا اس سلسلے میں انتہائی مفید ہے۔ ان کیلئے دِلْسَوزی کے ساتھ دُعا بھی فرماتے رہئے۔خود کو اور اہلِ خانہ کو ہر گناہ سے بچانے کی کُڑھن پیدا کیجئے اور کوشِش بھی جاری رکھیں۔ پارہ 28سورۃُ التَّحرِيم کی چھٹی آیتِ کریمہ میں ارشادِ خداوندی ہے:
یٰاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ
(پ۲۸، التَّحرِيم: ۶)
تَرجَمہ کنزالايمان:اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتَّھر ہیں۔
رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعظّم ہے: کُلُّکُمْ رَاعٍ