Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
105 - 109
سے نکلتے وَقت اسلامی بہن غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا مَدَنی بُرقع اَوڑھے، ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں جُرابیں پہنے۔ مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے۔ جہاں کہیں غیر مَردوں کی نظر پڑنے کا امکان ہو وہاں چہرے سے نِقاب نہ اٹھائے مَثَلاً اپنے یاکسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی مَحَلّہ وغیرہ۔نیچے کی طرف سے بھی اِس طرح بُرقع نہ اٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر غیر مَردوں کی نظر پڑے۔ واضح رہے کہ عورت کے سر سے لیکر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصّہ بھی مَثَلاً سر کے بال يا بازو يا کلائی یاگلا یا پیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مرد (یعنی جسں سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو ) پر بلااجازتِ شَرْعی ظاہر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسامَہِین یعنی پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جَھلکے ياایسا چُست ہے کہ کسی عُضْو کی ہیئت(ہَےاَت، یعنی شکل و صورت یا اُبھار وغیرہ)ظاہِر ہو یادوپٹّہ اتنا باریک ہے کہ بالوں کی سیاہی چمکے يہ بھی بے پَردَگی ہے ۔ میرے آقا اعلیٰحضرت، اِمامِ اَہلسنّت حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :جو وضْعِ لباس(یعنی لباس کی بناوٹ) وطریقہ پَوشِش(یعنی پہننے کا انداز) اب عورات ميں رائج ہے کہ کپڑے باریک جن ميں سے بدن چمکتا ہے يا سر کے بالوں يا گلے يا بازو يا کلائی ياپیٹ یا پنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں توسوا خاص مَحارِم کے جن سے نِکاح ہمیشہ کو حرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت