کر حق سے دعا امتِ مرحوم کے حق میں خطروں میں بہت اس کا جہاز آ کے گھِرا ہے
امت میں تِری نیک بھی ہیں بد بھی ہیں لیکن دلدادہ ترا ایک سے ایک ان میں سوا ہے
ایماں جسے کہتے ہیں عقیدے میں ہمارے وہ تیری محبت تری عترت کی وِلا ہے
جو خاک ترے در پہ ہے جاروب سے اڑتی وہ خاک ہمارے لئے داروئے شفا ہے
جو شہر ہوا تیری ولادت سے مشرف اب تک وہی قبلہ تری امت کا رہا ہے
جس ملک نے پائی تری ہجرت سے سعادت مکے سے کشش اس کی ہر اک دل میں سوا ہے
کل دیکھئے پیش آئے غلاموں کو ترے کیا اب تک تو ترے نام پہ اک ایک فدا ہے
ہم نیک ہیں یا بد ہیں بالآخر ہیں تمہارے نسبت بہت اچھی ہے مگر حال برا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی ہاں ایک دعا تیری کہ مقبولِ خدا ہے
پیارے اسلامی بھائیو!آج اگر ہمیں اپنی کھوئی ہوئی عَظَمَتِ رَفتہ کو حاصِل کرنا ہے تو اس دورِ جدید کی بدتہذیبی سے جان چھُڑا کر اپنے روشن ماضی کی جانب واپس جانا ہوگا،ابتدا اپنے گھر سے کرتے ہوئے اپنے گھر کی خواتین کو شرعی پردے کے اِہتِمام کا ذِہْن دینے کی کوشِش کرنی ہوگی،ان کا ذِہْن بنائیں کہ صرف جہاں شریعت اجازت دیتی ہے اسی صورت میں گھر سے باہر قدم رکھیں اور وہ بھی مَدَنی احتیاطوں کے ساتھ جس کا ذِہْن شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:شَرعی اِجازت کی صُورَت میں گھر سے