کریمین کی والدہ ماجدہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا باپردہ تھیں، سرکارِ بغداد حضور ِ غوث پاک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی والدہ محترمہ سَیِّدَتُنا اُمُّ الْخَیر فاطمہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہا باپردہ تھیں، اَلْغَرض جب تک پردہ قائم تھا اور عِفَّت مآب خواتین چادر اور چار دیواری کے اندر تھیں مسلمان خوب ترقّی کی مَنازِل طے کرتا جارہا تھا، غیر مسلموں پر غالِب آرہا تھا، جب سے غیر مسلموں کے زیرِ اَثر آکر مسلمانوں نے بے پردگی کا سلسلہ شروع کیا مسلمان مُسلسل تَنَزلی کے گہرے گڑھے میں گِرتا جارہا ہے، کل تک جوغیر مسلم مسلمانوں کے نام سے لَرْزَہ بَراَندام تھے آج مسلمانوں کی بے پردگیوں، بداعمالیوں کے باعِث غالِب آچکے ہیں ۔ مگر مسلمان ہوش کے ناخُن نہیں لے رہا، سوچتا نہیں ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔
امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصرو کسریٰ
اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے فروزاں
شِکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے جو کچھ ہےوہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت
سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام برا ہے دیکھیں ہیں یہ دِن اپنی ہی غفلت کی بدولت
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے فریاد اے کشتیٔ امت کے نگہباں