Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
102 - 109
پردے کی شان
شَرعی پردہ کرنے والیوں کی بڑی شانیں ہوتی ہیں۔ چُنانچِہ اَخبارُ الاخیار میں ہے : سَخْت قَحط سالی ہوئی، لوگوں کی بَہُت دُعاؤں کے باوُجُود بارِش نہ ہوئی۔ حضرتِ سیِّدُنا بابا نِظام ُالدّین ابو المؤید  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اپنی امیّ جان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہا کے کپڑے کا ایک دھاگہ ہاتھ میں لیکر عرض کی:یا اللہ! یہ اُس خاتون کے دامَن کا دھاگہ ہے جس(خاتون) پر کبھی کسی نامَحْرَم کی نظر نہ پڑی، میرے مولیٰ! اِسی کے صَدقے رَحمت کی بَرکھا (بارش)برسا دے! ابھی دُعا خَتْم کی ہی تھی کہ رَحمت کے بادَل گھر گئے اور رِم جِھم رِم جِھم بارِش شُروع ہو گئی۔ (اخبار الاخیار، ص۲۹۴)
یہی مائیں ہیں جن کی گود میں اسلام پلتا تھا
حَیا سے ان کی انساں نور کے سانچے میں ڈھلتا تھا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! ہماری صحابیات اور صالحات کس قَدَر پردے کا اِہتِمام کرتی تھیں،جی ہاں! یہ ہی وہ پردہ نشین مائیں تھیں جنھوں نے بڑے بڑے بہادر جرنیل، سِپہ سالار،عظیم حکمران، علمائے ربانیین اور اولیائے کاملین کو جَنَم دیا جن کی بَدَولَت اسلام چار دَانگِ عالَم میں پھیل گیا، تمام امہاتُ المومنین، جملہ صحابیات ِ سیدالمرسلین سب باپردہ تھیں، حسنین