Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
101 - 109
کچھ یو ں ہے :حضرت سیِّدَتُنا خاتونِ جنّت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کو یہ تشو یش تھی کہ عُمر بھر تو غیر مَردوں کی نظروں سے خود کو بچائے رکھا ہے، اب کہیں بعدِ وفات میری کَفْن پوش لاش ہی پرلوگوں کی نظر نہ پڑ جائے !ایک موقع پر حضرتِ سیِّدَتُنا اَسماء بنتِ عمیس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے کہا :میں نے حَبشہ میں دیکھا ہے کہ جَنازے پر دَرَخْت کی شاخَیں باندھ کر ایک ڈَولی کی سی صُورَت بنا کر اُس پر پردہ ڈالدیتے ہیں۔ پھر اُنہوں نے کَھجور کی شاخیں منگوا کر انہیں جوڑ کر اُس پر کپڑا تان کر سیِّدہ خاتونِ جنّت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کو دِکھایا۔ آپ بَہُت خوش ہوئیں اور لبوں پر مسکراہٹ آگئی ۔ بس یِہی ایک مسکراہٹ تھی جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصالِ ظاہِری کے بعد دیکھی گئی۔
(پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۲۰۰ بحوالہ جذب القلوب الیٰ دیار المحبوب،ص۱۵۹)
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! سیّدِہ خاتونِ جنّت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے پردے کی بھی کیا بات ہے! کسی نے کتنا پیارا شِعْر کہا ہے   ؎
چُو زَہرا باش از مخلوق رُو پوش
کہ دَر آغوش شبّیرے بَہ بینی
( یعنی حضرت فاطِمہ زَہْرا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کی طرح پرہیز گار و پردہ دار بنو تاکہ اپنی گود میں حضرتِ سیِّدُنا شبّیرِ نامدار امامِ حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جیسی اولاد دیکھو)