Brailvi Books

گُونگا مبلغ
45 - 49
 (15) ڈ یف کلب کے صدر کی توبہ
    پنجاب کے شہر لالہ موسیٰ کے ايک '' گونگے بہرے'' اسلامی بھائی ڈیف کلب کے صدر تھے۔وہ نائی کا کام کرتے تھے اور دوسروں کی داڑھیاں مونڈنے کے ساتھ ساتھ خود بھی داڑھی منڈاتے تھے ۔ ان کی خوش نصیبی کہ انہیں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر انہوں نے نہ صرف داڑھی رکھ لی بلکہ عمامہ شريف کا تاج بھی سجاليا اور عطاری بھی بن گئے۔وہ دعوت اسلامی کے مَدَنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ان کا نائی کا کام چھوڑ نے کا ذہن بن گیا کیونکہ اس میں داڑھی مونڈنے اور خشخشی کرنے کا کام کرناپڑتا ہے اور اس کی اُجرت حرام ہے۔ مگران کے والد صاحب نے(جو خود بھی گونگے بہرے ہیں )ان کی بات نہ مانی۔ مگروہ گونگے بہرے اسلامی بھائی مایوس ہونے کے بجائے والد صاحب پر داڑھی مونڈنے کا ناجائزکام چھوڑنے کیلئے انفرادی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران اس اسلامی بھائی نے گاہگوں کی شيو بنانے سے انکار کردیا جس پر والد نے انہیں بہت مارا۔مگروہ اپنے پیر و مرشد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی تربیت کی بَرَکت سے خاموش رہے اور اپنے والد صاحب سے کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کی ۔بلکہ دلبرداشتہ ہوئے بغیر اُن پر انفرادی کوشش جاری رکھی۔ بالآخر ان کی انفرادی کوششیں رنگ لائیں اور ان کے والد صاحب نائی کا کم چھوڑ کر کپڑے استری کرنے کا کام کرنے پر آمادہ ہوگئے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter