مَدَنی ماحول کی برکت سے سنّت کے مطابق داڑھی شريف رکھنے کے ساتھ ساتھ سر پر سبز عمامے شريف کا تاج بھی سجاچکے تھے۔باجماعت نماز کے تو ایسے پابند ہوگئے کہ اذان سے پہلے ہی مسجد ميں چلے جاتے اور ذکر و اذکار ميں مشغول رہتے۔مسجد کے نمازی بھی ان سے بے حد متاثر تھے۔ يہ گونگے بہرے اسلامی بھائی Deafاسکول میں پڑھتے تھے۔اسکول کے طلبہ انہیں تنگ کرتے اورکہتے : ''(معاذاللہ) تم داڑھی کٹوادو ،ابھی تمہاری عمرہی کیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔''مگر ان کے دل ميں آقا صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی سنتوں پرعمل کا ایسا جذبہ تھا کہ وہ ان مشوروں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ۔ ايک دفعہ اسکول ميں چند لڑکوں نے ان کو پکڑا اور ٹیچر نے ان کی داڑھی کاٹ دی(معاذاللہ عزوجل)۔اس گونگے بہرے اسلامی بھائی کو ان کے اس ظالمانہ عمل کا بہت صدمہ ہوا ۔وہ مارے دکھ اور شرم کے گھر ميں جا بیٹھے اور روتے رہے۔بالآخر سنتوں پر عمل ترک کرنے کے بجائے انہوں نے اس اسکول کو ہی چھوڑ ديا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ يہ گونگے بہرے اسلامی بھائی آج بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہیں اورنہ صرف سنّتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع ميں پابندی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں بلکہ عاشقانِ رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں سفر بھی کرتے ہیں ۔