خوش ہوئے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے ساتھ ایک نوجوان کولے آئے جس کے سر پر سفید عمامہ اور چہرے پر سُنّت کے مطابق داڑھی شریف تھی۔ فرمانے لگے :'' یہ میرا بیٹا ہے جو Deaf(یعنی گونگا بہرا) ہے آپ لوگوں کے مَدَنی کام کے اس انداز سے میں بَہُت خوش ہوا ہوں ،میرا بیٹا بآسانی انگلش لکھ اور پڑھ سکتا ہے، کمپیوٹر بھی چلا لیتا ہے مگر اشارے نہیں جانتاآپ لوگوں سے عرض ہے کہ اسے بھی اشارے سکھادیں۔''جب امیرِ قافلہ نے انہیں بہاولپور میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی تو انہوں نے بخوشی قبول کرلی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وہ نہ صرف خود اجتماع میں تشریف لائے بلکہ کئی عمومی اسلامی بھائیوں کو بھی اپنی گاڑی میں ساتھ لے آئے۔