بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ پھر اس پر صلح کرنے کیلئے انفرادی کوشش شروع کی گئی ۔پہلے پہل تو وہ بَہُت جذباتی دکھائی دیا مگراسلامی بھائیوں کے شفقت آمیز رويے سے متاثر ہوکر اشاروں کی زبان میں کہنے لگا:'' میں صرف اس شرط پَرصلح کرونگا کہ میرے گھر والے مجھے ضیاء کوٹ میں ہونے والے اجتماع میں شریک ہونے کی اجازت دیں گے اور والد صاحب، بھائی اور دکان کے تمام ملازمین بھی ضیاء کوٹ اجتماع میں شرکت کریں گے۔'' اس کے والد نے اس شرط کو پورا کرنے کی حامی بھرلی۔ اس کے بعد ناراض گونگے بہرے اسلامی بھائی کی دکان کے ملازم سے صلح کروادی گئی۔اجتماع والے دن اسلامی بھائیوں نے دیکھا کہ وہ گونگا اسلامی بھائی اپنے والد، بھائی اور دکان کے ملازمین سمیت ضیاء کوٹ کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا۔