بہرے اسلامی بھائی آبدیدہ ہوگئے ۔امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کا اثر تھا کہ وہاں پر موجود ڈیف کلب کا صدراپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ وہ دورانِ بیان اُٹھا اور مبلغ کے سینے سے لگ کر رونے لگا۔ بہرحال رقت انگیز ماحول میں بیان جاری رہا ۔بعدِ اجتماع جب امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے مرید ہونے کیلئے نام لکھنے کا سلسہ ہوا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر ایک گونگا چاہتا ہے کہ میں پہلے اپنے آپ کو عطاری رنگ میں رنگ لوں۔شرکاء ِ اجتماع نے نمازوں کی پابندی اور اجتماعات میں شرکت کی نیّت کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ زندگی اطاعتِ الٰہی میں گزارنے کا بھی عزم کیا ۔ اس اجتماع میں موجود 4 بد مذہب گونگے بہروں نے توبہ بھی کی اور امیرِاَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے مرید ہوکر ''عطاری'' بھی بن گئے۔