اسے دعوتِ اسلامی کے بين الاقوامی تین روزہ سنتوں بھرے اجتماع ميں شرکت کی دعوت دی ۔ جسے اس نے قبول کرلیا ۔ جب وہ ''گونگاقاديانی'' مد ينۃ الاولياء (ملتان شريف) دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے لئے صحرائے مدینہ پہنچا توہر طرف سبز سبز عمامہ شریف کی بہاریں اوردُرود وسلام کی صدائیں تھیں ،الغرض ایک عجیب روح پَرور سماں تھا۔یہ مناظر دیکھ کر وہ گونگا قادیانی اس مَدَنی ماحول سے اسقدر متاثر ہوا کہ اس نے وہیں اجتماع میں اپنے باطل مذہب قادیا نیت سے توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگيااور شَیخِ طریقت ،امیرِ اَہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے مريد ہو کر ''عطاری '' بھی بن گيا۔