(یعنی دنیا اور اس کے اندر جو کچھ ہے اُس )سے بہتر ہے جنَّت کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں اور مُشک کے گارے سے بنی ہیں جنَّتیوں کو جنَّت میں ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے، جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے موجود ہو گا* اگر کسی پرند کو دیکھ کر اس کے گوشت کھانے کو جی ہو تو اُسی وقت بُھنا ہوا اُن کے پاس آجائے گا أ اگر پانی وغیرہ کی خواہش ہو تو کوزے خود ہاتھ میں آجائیں گے، ان میں ٹھیک اندازے کے مُوافِق پانی، دودھ، شراب، شہد ہوگا کہ ان کی خواہش سے ایک قطرہ کم نہ زیادہ، بعد پینے کے خودبخود جہاں سے آئے تھے چلے جائیں گے* وہاں کی شراب دنیا کی سی نہیں جس میں بدبُو اور کڑواہٹ اور نشہ ہوتا ہے اور پینے والے بے عقل ہو جاتے ہیں، آپے سے باہَر ہو کر بیہودہ بکتے ہیں، وہ پاک شراب اِن سب باتوں سے پاک و مُنَزَّہ ہے ؤہاں نَجاست، گندَگی، پاخانہ، پیشاب، تھوک، رینٹھ، کان کا میل، بدن کا میل اَصْلاً(یعنی بِالکل)نہ ہوں گے* ایک خوشبو دارفَرحت بخش ڈکار آئے گی، خوشبو دار فرحت بخش پسینہ نکلے گا* سب کھانا ہضم ہوجائے گا اور* ڈکا ر اور پسینے سے مُشک کی خوشبو نکلے گی ہر وَقت زَبان سے تسبیح و تکبیر بہ قَصد(یعنی ارادۃً)اور بِلاقَصد (یعنی بِلا ارادہ)مِثلِ سانس کے جاری ہوگی کم سے کم ہر شخص کے سِرہانے دس ہزار خادِم کھڑے ہونگے، خادِموں میں ہر ایک کے ایک ہاتھ میں چاندی کا پیالہ ہوگا اور دوسرے ہاتھ میں سونے کا اور ہرپِیالے میں نئے نئے رنگ کی نعمت ہو گی، جتنا کھاتا جائے گا لذّت میں کمی نہ ہوگی بلکہ زیادَتی ہوگی ، ہر نوالے میں ستَّرمزے ہوں گے، ہر مزہ دوسرے سے مُمتاز، وہ(مزے)مَعاً(یعنی ایک ہی ساتھ )محسوس ہوں گے، ایک کا احساس دوسرے سے مانِع(یعنی روکنے والا)نہ ہو گا * جنَّتیوں کے نہ لباس پُرانے پڑیں گے ، نہ ان کی جوانی فَنا ہوگی*اگر جنَّت کا کپڑا دنیا میں پہنا جائے تو جو دیکھے بے ہوش ہو جائے، اور لوگوں کی نگا ہیں اس کا تحمل