(تَ۔حَم۔مُلْ یعنی برداشت)نہ کر سکیں*اگر کوئی حور سمندر میں تھوک دے تو اُس کے تھوک کی شیرینی(مٹھاس)کی وجہ سے سمندر شیریں(میٹھا)ہو جائے اور ایک روایت ہے کہ اگر جنَّت کی عورت سات سمندروں میں تھوکے تو وہ شہد سے زیادہ شیریں (یعنی میٹھے)ہو جائیں* سر کے بال اور پلکوں اور بھَووں کے سوا جنَّتی کے بدن پر کہیں بال نہ ہوں گے، سب بے رِیش ہوں گے، سُر مَگیں(یعنی سُرمہ لگی)آنکھیں، تیس برس کی عُمر کے معلوم ہوں گےکبھی اس سے زیادہ معلوم نہ ہوں گے *پھر لوگ(اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے)ایک بازار میں جائیں گے جسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں، اُس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ ان کی مثل نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی، نہ قُلوب(یعنی دلوں) پر ان کا خطرہ (خیال)گزرا، اس میں سے جو (چیز)چاہیں گے، اُن کے ساتھ کر دی جائے گی اور خریدوفروخت نہ ہوگی اور * جنّتی اس بازار میں باہم ملیں گے، چھوٹے مرتبے والا بڑے مرتبے والے کو دیکھے گا، اس کا لباس پسند کریگا، ہُنُوز(یعنی ابھی)گفتگو ختم بھی نہ ہوگی کہ خیال کریگا، میرا لباس اُس سے اچّھا ہے اور یہ اس وجہ سے کہ جنت میں کسی کے لیے غم نہیں *جنّتی باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلا جائے گا۔ اور اُن میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب میں مُعزَّز وہ ہے جو اﷲ تعالیٰ کے وجہِ کریم کے دیدار سے ہر صبح و شام مُشَرّف ہوگا * جب جنّتی جنَّت میں جا لیں گے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن سے فرمائے گا: کچھ اور چاہتے ہو جو تم کو دوں؟ عرض کریں گے: تُو نے ہمارے منہ روشن کیے، جنَّت میں داخِل کیا، جہنَّم سے نَجات دی۔ اُس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا اُٹھ جائے گا تو دیدارِ الٰہی سے بڑھ کر انھیں کوئی چیز نہ ملی ہوگی۔