باوُجود بوقتِ رخصت بُرے خاتمے سے دو چار ہو۔ ہم ربِّ ذُوالجلال عَزَّوَجَلَّ سے بھلائی کا سُوال کرتے ہیں ۔ ایک عبرت انگیز حدیثِ پاک مُلا حظہ فرمایئے:اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے مرنے سے ایک سال پہلے ایک فِرِشتہ مقرَّر فرما دیتا ہے جو اُس کو راہِ راست پر لگاتا رہتا ہے حتّٰی کہ وہ خیر(یعنی بھلائی)پر مر جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں:فُلاں شخص اچّھی حالت پر مرا ہے۔ جب ایسا خوش نصیب اور نیک شخص مرنے لگتا ہے تو اُس کی جان نکلنے میں جلدی کرتی ہے۔ اُس وقت وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ملاقات کو ۔ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرتا ہے تو مرنے سے ایک سال قبل ایک شیطان اُس پر مُسلَّط کردیتا ہے جو اُسے بہکا تا رہتا ہے حتیّٰ کہ وہ اپنے بدترین وقت میں مرجاتا ہے۔ اُس کے پاس جب موت آتی ہے تو اُس کی جان اٹکنے لگتی ہے۔ اس وقت یہ شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ َسے ملنے کو پسند نہیں کرتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے ملنے کو ۔