بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین فرماتے ہیں :عقلوں کے دشمنوں اور مَحَبَّتوں کے چوروں سے بچو ،یہ چور بدگوئی کرنے والے اورچُغلی کھانے والے ہیں اور چور تومال چُراتے ہیں جبکہ یہ(غیبتیں اور چغلیاں کرنے والے)لوگ محبتیں چُراتے ہیں۔
جدا ہونے تک حالتِ جہاد ميں
حضرتِ سیّدُنا منصور بن زَاذَان علیہ رحمۃ المنان فرماتے ہیں:اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میرے پاس عُمُوماًجو بھی آ کر بیٹھتا ہے وہ جب تک چلا نہ جائے میں گویا اس کے ساتھ حالتِ جہاد میں ہوتا ہوں کیونکہ وہ مجھے میرے دوست سے مُتَنَفِّرکرنے (یعنی نفرت دلانے)سے باز نہیں رہتا، یامیری غیبت کرنے والوں کی غیبتیں مجھ تک پہنچا کر مجھے تشویش میں ڈالتا اورآزمائش میں مبتَلا کرتا ہے۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۶)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
امین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مجھے غیبتوں سے بچا یا الہٰی بچوں چُغلیوں سے سدا یاالٰہی عزوجل
کبھی بھی لگاؤں نہ تہمت کسی پر دے توفیقِ صِدق و وفا یا الٰہی عزوجل
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد