| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
جائیں گے۔ ہاں جس کی غیبت کی گئی تھی اُس کی تصدیق ہوجانے پر اچّھی اچّھی نیّتیں کر کے اُس ماتَحت کی ضَرور اصلاح فرمادیجئے۔آپ کو اگر چِہ بظاہر کوئی بڑائی مل بھی گئی ہو مگر اللہُ قدیرعَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ہمیشہ ڈرتے رہے، محض رسمی کلامی نہیں دل کی گہرائی سے عاجِزی عاجِزی اور عاجِزی کرتے رہے ، اپنی کم مایَگی و بے بِضاعتی (یعنی کم حیثیتی)کا اِعتِراف کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں عرض کیجئے ؎
خاک مجھ میں کمال رکھا ہے مصطَفٰے نے سنبھال رکھا ہے
میرے عَیبوں پہ ڈال کر پردہ مجھ کو اچّھوں میں ڈال رکھا ہے
تیرا اعجاز ؔ کب کا مر جاتا
تیرے ٹکڑوں نے پال رکھا ہےچغل خور کبھی سچا نہيں ہو سکتا
جب بھی آپ کے پاس کوئی آ کر کسی کی غیبت کر ے اُس پر ہرگز اعتماد مت کیجئے ، کیوں کہ غیبت کرنے کے سبب وہ فاسِق ہوجاتا ہے اور فاسِق کی خبر معتبر نہیں ہوتی ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن شِہاب زُہری علیہ رحمۃ اللہ القوی ایک مرتبہ بادشاہ سلیمان بن عبد الملک کے پاس تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا، بادشاہ نے قدرے ناگواری کے ساتھ اُس سے کہا: ''مجھے پتا چلا ہے تم نے میرے خلاف فُلاں فُلاں بات کی ہے !'' اُس نے جواب دیا : میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔ بادشاہ نے اِصرار کرتے ہوئے کہا:جس نے مجھے بتایا ہے، وہ(کیسے جھوٹ بول سکتا ہے بَہُت)سچّا آدمی ہے۔تو حضرتِ سیِّدُنا امام زُہری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے بادشاہ کو مخاطب کر کے فرمایا:(آپ کو جس نے اِس طرح کی خبر دی وہ تو چغلی کھانے والا ہوا اور)''چُغل خور کبھی سچّا ہو نہیں سکتا!''یہ سُن کر بادشاہ سنبھل گیا اور کہنے لگا :حُضُور!آپ نے بالکل بجا فرمایا۔ پھر اُس شخص سے کہا:
اِذْھَبْ بِسَلَامٍ
یعنی تم سلامتی کے ساتھ لَوٹ جاؤ۔
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۹۳)