''بڑوں ''یعنی اُستادوں ،نگرانوں وغیرہ کی خدمتوں میں مَدَنی التجاء ہے کہ جب کوئی شخص آپ کے پاس آ کرآپ کے کسی ماتحت کی بِلا مَصلَحتِ شرعی غیبت کرنے لگے تو قدرت ہونے کی صورت میں فوراً اُسے روکدیجئے، ورنہ غیبت سننے کے گناہ میں پڑسکتے ہیں۔ اگر غیبت سُن کر آپ کو غصّہ آ گیا اور زَبان سے''کچھ''نکل گیا تو ہو سکتا ہے کہ وُہی غیبت کرنے والا مُغْتاب کویعنی جس کی غیبت کر رہا تھا اُس کوآپ کے''الفاظ''پہنچا دے اورپھر مزید گناہوں بھرے مسائل پیدا ہوں ۔بِالفرض غیبت کرنے والا آپ کے پاس کسی کی بُرائی پہنچانے میں کامیاب ہوبھی گیا ہو اورآپ نے بھی غیبت سے بچنے کے طریقوں پر عمل نہ کیا ہوتو اپنی آخِرت کی بھلائی کی خاطِرہاتھوں ہاتھ توبہ اور اس کے تقاضے پورے کرلیجئے اور غیبت کرنے والے پر ا ِنفِرادی کوشِش کرکے اُسے بھی توبہ کروادیجئے نیز مُغْتاب یعنی جس کی غیبت کی گئی ہے اُس کے مُتَعَلِّق ہرگز بدگُمانی مت کیجئے ،نہ ہی اُس پر اپنی شَفقتیں کم کیجئے کہ آپ کو جو کچھ کسی کے بارے میں بتایا گیا اِس کا کوئی ثُبوت بھی نہیں،معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ غیبت کرنے والے کے ذَرِیعے ملی ہوئی بات کسی اور کو بتانے کا جذبہ شر پیدا ہوتے ہی اِس فرمانِ مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ذِہن میں دُہرایئے: