مذکورہ حدیثِ پاک سے وہ لوگ عبرت حاصِل کریں جو کہ شاگرد کی استاد سے، بیٹے کی باپ سے،مُلازِم کی سیٹھ سے، ماتَحت کی نگران سے اورمُرید کی اُس کے پیر صاحِب سے بِلامصلَحتِ شرعی کمزوریاں اور برائیاں بیان کر کے غیبت کا کبیرہ گناہ کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کو ان کی نظر سے گراد یتے ہیں، شاید انہیں اِس بات کا ہوش بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کرکے کتنی بڑی خرابیوں کا باعِث بنتے ہیں، ظاہر ہے جب شاگرد اپنے استاد کی ، ماتحت اپنے نگران کی اور مُرید اپنے پیرو مُرشِد کی نظر سے گر گیا تو بے چارے کا جو انجام ہو گا وہ ہر ذِی شُعُور سمجھ سکتا ہے ۔ کاش ! یہ غیبت کرنے والا غیبت کرنے سے قَبل خود اپنے لئے غور کر لیتا کہ اگر مجھے کوئی اپنے پیر صاحِب یا دینی استاذ کی نگاہ سے گرادے تو مجھ پر کیا گزرے!اے کاش ! پیرو مرشِد کی نظر سے ہم کبھی بھی نہ گریں! صد کروڑ کاش! ہم ہمیشہ ہمیشہ اپنے مرشدِ گرامی کی سیدھی اور میٹھی میٹھی نظر میں رہیں ؎